روزنِ حسرتِ یار بجھا ہے لنک حاصل کریں Facebook X Pinterest ای میل دیگر ایپس اپریل 09, 2013 روزنِ حسرتِ یار بجھا ہے‘ دل کے دریچے موڑ چکے جام و سبو بے کار پڑے ہیں‘ ساغر و مینا توڑ چکے فکر و تأمل ہی سے علاقہ شعر و سخن کی بابت تھا سو یہ زمامِ کار بھی آخر خواہی نخواہی چھوڑ چکے مزید پڑھیں