بسکہ پورے کیجیے مقدور تک
بسکہ پورے کیجیے مقدور تک
سارے وعدے وعدۂ مشہور تک
آہ پہنچی جلوۂ پرنور تک
ہو گیا آتش دلِ مقرور تک
نالۂ خاکِ لحد تاثیردار
لوٹ آیا قاتلِ مفرور تک
میں کہ خود بھاگا بصد قلبِ شہید
ناوکِ یک دیدۂ مغرور تک
چلیے کچھ گھاٹے کا سودا تو نہیں
گر خدا مل جائے کوہِ طور تک
یاں سے لے کر تا عدم امیدوار
رند نہ ہو جائیں باغِ حور تک
بارے فاتحؔ چشمۂ حیرت لگا
اب نظر جانے لگی ہے دور تک