دن رات کا افسانہ تو آنکھوں میں سمٹ جائے

دن رات کا افسانہ تو آنکھوں میں سمٹ جائے
پڑھنے میں ترا چہرہ کہیں عمر نہ کٹ جائے
کچھ ہاتھ سرِ روزنِ زنداں تو اُٹھے ہیں
شاید مری تقدیر کا پانسا بھی پلٹ جائے
فاتؔح چلے آتے ہیں سرِ بزمِ سخن گوئی
کم فہم کو لازم ہے کہ وہ آگے سے ہٹ جائے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اپنے بس کی بات نہیں ہے

اِک بار ترے دیکھنے کی چاہ تھی ہم کو

ہوں میں کل سنسار سے اوبا ہوا