مراد وجہِ الم ہے
| مراد وجہِ الم ہے، کراہتے کیوں ہو؟ |
| جو چاہیے ہی نہیں، اُس کو چاہتے کیوں ہو؟ |
| ملاپ قلب کا ہوتا ہے، قالبوں کا نہیں |
| فقط بدن کو بدن سے بیاہتے کیوں ہو؟ |
| منیبؔ! ہونٹ بہت خشک ہیں لبِ راوی |
| اب ایسے صحرا نما سے نباہتے کیوں ہو؟ |
| مراد وجہِ الم ہے، کراہتے کیوں ہو؟ |
| جو چاہیے ہی نہیں، اُس کو چاہتے کیوں ہو؟ |
| ملاپ قلب کا ہوتا ہے، قالبوں کا نہیں |
| فقط بدن کو بدن سے بیاہتے کیوں ہو؟ |
| منیبؔ! ہونٹ بہت خشک ہیں لبِ راوی |
| اب ایسے صحرا نما سے نباہتے کیوں ہو؟ |