مراد وجہِ الم ہے

مراد وجہِ الم ہے، کراہتے کیوں ہو؟
جو چاہیے ہی نہیں، اُس کو چاہتے کیوں ہو؟
ملاپ قلب کا ہوتا ہے، قالبوں کا نہیں
فقط بدن کو بدن سے بیاہتے کیوں ہو؟
منیبؔ! ہونٹ بہت خشک ہیں لبِ راوی
اب ایسے صحرا نما سے نباہتے کیوں ہو؟

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آشناے غم پایا رازدانِ دل پایا

اپنے بس کی بات نہیں ہے

ہوں میں کل سنسار سے اوبا ہوا