جب تک بجاے اشک کے موتی نہ دیکھ لو
| جب تک بجاے اشک کے موتی نہ دیکھ لو |
| کچھ دیر رو کے ہم دمِ دیرینہ دیکھ لو |
| اہرام مصر کے ہوں مقابر ہوں چین کے |
| دل سا کہیں نہ پاؤ گے گنجینہ دیکھ لو |
| سنتے ہی سنتے گزرے ہوؤں کی کہانیاں |
| ہم بھی ہوئے ہیں قصۂ پارینہ دیکھ لو |
| پانی میں عکس دیکھ لو رشکِ مسیح کا |
| مہدی کو دیکھنا ہو تو آئینہ دیکھ لو |
| ننگے تھے مفلسی میں پشیمان تو نہ تھے |
| کتنے خجل ہو اوڑھ کے پشمینہ دیکھ لو |
| مختار ہو دراز کرو دستِ دوستی |
| آپس میں پال پال کے یا کینہ دیکھ لو |
| سورج کو اپنے قلب کے بجھنے نہ دو منیبؔ |
| تا آن کہ شامِ قالبِ خاکی نہ دیکھ لو |