اوڑھ کر ہم نے جامۂ افرنگ

اوڑھ کر ہم نے جامۂ افرنگ
کر فراموش اپنی چال ہی دی
ٹالتے ٹالتے ہر اِک دن کو
زندگی تم نے ساری ٹال ہی دی
کان میں بات ڈالنی تھی مجھے
کان میں بات میں نے ڈال ہی دی

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ہوں میں کل سنسار سے اوبا ہوا

اپنے بس کی بات نہیں ہے

آشناے غم پایا رازدانِ دل پایا