سوچتے کیا ہو؟
| اگر یہ سوچ لیا ہے کہ کر دکھاؤ گے |
| تو کر دکھاؤ مری جان! سوچتے کیا ہو؟ |
| متاعِ دل کو لُٹانے کی تم نے ٹھانی ہے |
| پھر اِس میں نفع ہو، نقصان، سوچتے کیا ہو؟ |
| جو فاصلہ ہے نا، وہ فیصلے سے کٹتا ہے |
| بنا چلے ہو پریشان، سوچتے کیا ہو؟ |
| فرازِ کوہ پہ تم کو نگاہ رکھنی ہے |
| عمیق کتنی ہے ڈھلوان، سوچتے کیا ہو؟ |
| اتار دی ہیں اگر کشتیاں سمندر میں |
| پھر آئے لہر کہ طوفان، سوچتے کیا ہو؟ |
| ابھی تو حال ہے، ماضی نہیں، نہ مستقبل |
| ابھی سے ہو گئے ہلکان، سوچتے کیا ہو؟ |
| تمھیں تو منزلِ مقصود پر پہنچنا ہے |
| سفر کٹھن ہے کہ آسان، سوچتے کیا ہو؟ |