اشاعتیں

کرو تو دن ہی لگتا ہے

سوچو تو صدیاں لگ جائیں‘ کرو تو دن ہی لگتا ہے کام اپنے انجام سے پہلے ناممکن ہی لگتا ہے

بند رکھنے لگا ہوں فون بہت

بند رکھنے لگا ہوں فون بہت مجھ کو تنہائی میں سکون بہت شوق گھٹتا گیا ہے عمر کے ساتھ نوجوانی میں تھا جنون بہت زندگی یوں تو اِک فسانا ہے پر فسانا ہے پُر فسون بہت نیم عریاں ہے خود تو چرواہا اُس کی بھیڑوں پہ لیکن اون بہت پیدا کرتا ہے قرن ایک اویسؒ بیت جاتے ہیں جب قرون بہت ہر مہینا ہی اِبتلا ہے مگر جنوری سرد‘ گرم جون بہت میرے اشعار کیوں نہ تر ہوں الفؔ صَرف اِن میں کیا ہے خون بہت

رات ہے چاند ہے ستارے ہیں

رات ہے چاند ہے ستارے ہیں ہم مگر منتظر تمھارے ہیں

دھوپ ہے دیوار کا سایا بھی ہے

دھوپ ہے دیوار کا سایا بھی ہے بیٹھنا تنہا ہمیں بھایا بھی ہے جس کے آگے منزلیں ہوتی نہیں دل ہمیں اُس گام تک لایا بھی ہے چھوڑتے ہرگز نہیں سنسار کو اور یہ کہتے ہیں سب مایا بھی ہے ڈھونڈنے والوں سے یہ پوچھے کوئی کیا کسی نے ڈھونڈ کر پایا بھی ہے؟ یوں تو سمجھایا سمجھ داروں نے خوب پر جو سمجھایا سمجھ آیا بھی ہے؟ زندگی ننگی کی ننگی ہے منیبؔ پیرہن معنی کا پہنایا بھی ہے

معنی کا گہر بحر کے اندر تو نہیں ہے

معنی کا گہر بحر کے اندر تو نہیں ہے کچھ سار بھی اِس دہر کے اندر تو نہیں ہے اب ڈوبنے والے بھی کئی ہاتھ ہیں لیکن تنکا سا کسی نہر کے اندر تو نہیں ہے ستھرائی صفا‘ چین سکوں‘ پیار محبت باہر ہو کہیں‘ شہر کے اندر تو نہیں ہے جو خوف میں جاں لینے کی لوگوں کی سکت ہے وہ تاب و تواں زہر کے اندر تو نہیں ہے جو سختی ترے قہر کے اندر ہے‘ اے قاہر! وہ نرمی ترے مہر کے اندر تو نہیں ہے دریا میں منیبؔ آپ نے جس لہر کو دیکھا دریا بھی اُسی لہر کے اندر تو نہیں ہے؟

شاید کہ انجمن میں سنے کوئی دردمند

شاید کہ انجمن میں سنے کوئی دردمند کہتا کبھی کبھی ہوں میں خلوت میں شعر چند تم کو اگر پسند ہیں تو دوست رکھ ہی لو مجھ کو مری لکھی ہوئی چیزیں نہیں پسند موزونیِ طبع سے میں اب شاعری کروں جانوں نہ کوئی ماترا‘ مانوں نہ کوئی چھند گاہک بنے گا کوئی بھی ایسی دکاں کا جو دو چار دن کھلی رہے‘ دو چار روز بند؟ مچھلی کی بو کو سونگھ کے پکڑی ہے تم نے ناک یہ بو بھی ماہی گیر سے پوچھو‘ ہے اِک سگندھ دانا کو کیا بتائیے؟ ناداں سے کہیے کیا؟ سنیے منیبؔ! چھوڑیے کرنا یہ وعظ و پند

لوٹ لے جتنی لوٹنی ہے دھوپ

لوٹ لے جتنی لوٹنی ہے دھوپ قبر کے بیچ چھوٹنی ہے دھوپ تو بہت سائباں بناتا ہے کیا ترے سر پہ ٹوٹنی ہے دھوپ؟ سورج اُگنے کا اِنتظار نہ کر تیرے سینے سے پھوٹنی ہے دھوپ جل بجھا آفتاب غصے سے اب تو جلدی ہی روٹھنی ہے دھوپ بس کہ صحرائے زندگی میں منیبؔ ریت ہے‘ میں ہوں‘ اونٹنی ہے‘ دھوپ