اِک بار ترے دیکھنے کی چاہ تھی ہم کو
اِک بار ترے دیکھنے کی چاہ تھی ہم کو سو پوری ہوئی پوری ہوئی پوری ہوئی ہے کچھ پاس ہوئے پاس ہوئے پاس ہوئے تھے پھر دوری ہوئی دوری ہوئی دوری ہوئی ہے مختاری ہی مختاری ہی مختاری تھی خواہش مجبوری ہی مجبوری ہی مجبوری ہوئی ہے خباز نے پیڑے کو تپایا ہے بہت سا تب جا کے کہیں روٹی یہ تندوری ہوئی ہے اِس عاشقی کے نام پہ ہم خستہ تنوں سے مزدوری ہی مزدوری ہی مزدوری ہوئی ہے اے روشنیِ ماہ تری جلوہ گری سے مہ نوری ہی مہ نوری ہی مہ نوری ہوئی ہے منیب احمد 2 ستمبر 2024 لاہور