اشاعتیں

اِک بار ترے دیکھنے کی چاہ تھی ہم کو

اِک بار ترے دیکھنے کی چاہ تھی ہم کو سو پوری ہوئی پوری ہوئی پوری ہوئی ہے کچھ پاس ہوئے پاس ہوئے پاس ہوئے تھے پھر دوری ہوئی دوری ہوئی دوری ہوئی ہے مختاری ہی مختاری ہی مختاری تھی خواہش مجبوری ہی مجبوری ہی مجبوری ہوئی ہے خباز نے پیڑے کو تپایا ہے بہت سا تب جا کے کہیں روٹی یہ تندوری ہوئی ہے اِس عاشقی کے نام پہ ہم خستہ تنوں سے مزدوری ہی مزدوری ہی مزدوری ہوئی ہے اے روشنیِ ماہ تری جلوہ گری سے مہ نوری ہی مہ نوری ہی مہ نوری ہوئی ہے منیب احمد 2 ستمبر 2024 لاہور

عشق کا دور نہ تھا

عشق کا دور نہ تھا عرصۂ نادانی تھا کوئی طوفان نہ تھا آنکھ کا ہی پانی تھا جس کو سجدے کیے پوجا کیے معبود کیا بت خدا وہ نہیں تھا پیکرِ انسانی تھا شوق سے کوہ کو ہم کاٹنے چل نکلے تھے کٹ گئے آپ ہی یہ منظرِ حیرانی تھا کسب جو کچھ بھی کیا لفظی و مکتوبی تھا عرض جو کچھ بھی کیا ذوقی و وجدانی تھا چشمِ ظاہر نے دکھایا تھا جسے با معنی چشمِ باطن نے بتایا کہ وہ بے معنی تھا شہرِ لاہور کا گم نام سا شاعر تھا منیبؔ انوریؔ تھا نہ کوئی سعدیؔ و خاقانیؔ تھا

چل رہی ہے چلا رہے ہیں ہم

چل رہی ہے چلا رہے ہیں ہم ٹل رہی ہے ٹلا رہے ہیں ہم ہڈی ہڈی ہمارے تن کے بیچ گل رہی ہے گلا رہے ہیں ہم خون پی پی کے زندگی اپنا پل رہی ہے پلا رہے ہیں ہم

اپنے بس کی بات نہیں ہے

پڑھنا پڑھانا اپنے بس کی بات نہیں ہے لکھنا لکھانا اپنے بس کی بات نہیں ہے چپ رہ جانا کچھ نہیں کہنا بس میں ہے شور مچانا اپنے بس کی بات نہیں ہے تک بندی ہم کر لیتے ہیں تھوڑی سی شعر بنانا اپنے بس کی بات نہیں ہے سادہ سے اِک آدمی ہیں ہم ایم اے پاس زیادہ کمانا اپنے بس کی بات نہیں ہے ساتھی تیرے ساتھ سے ہم پہ ظاہر ہے ساتھ نبھانا اپنے بس کی بات نہیں ہے سادہ سی اِک زندگی کو اُلجھا لیا ہے سہج بنانا اپنے بس کی بات نہیں ہے دوسروں کے میں کام تو کرتا ہوں لیکن کام کرانا اپنے بس کی بات نہیں ہے پیڑوں کے پھل کھانے کی حسرت تو ہے پیڑ ہلانا اپنے بس کی بات نہیں ہے آج سے میں بس شعر لکھوں گا کاغذ پر ویڈیو بنانا اپنے بس کی بات نہیں ہے شاعری کر کے ذہن بہت تھک جاتا ہے ہل یہ چلانا اپنے بس کی بات نہیں ہے

ایک دن اور جی لیا ہم نے

کھا لیا ہم نے پی لیا ہم نے ایک دن اور جی لیا ہم نے چوٹ اِک اور لگ گئی دل کو زخم اِک اور سی لیا ہم نے کل بھی کر کے جسے تھے پچھتائے آج پھر کر وہی لیا ہم نے

ہوں میں کل سنسار سے اوبا ہوا

ہوں میں کل سنسار سے اوبا ہوا اور اپنے آپ میں ڈوبا ہوا ہو گئی تقدیر آخر کامیاب اپنا ہر ناکام منصوبا ہوا تو محب اپنا ہوا نہ ایک دل میں ترا سارا ہی محبوبا ہوا جب ہوئی ہم کو طلب تیری ہوئی جب ہوا تب تو ہی مطلوبا ہوا اِس طرح سے ہو گیا تن خشک تر جس طرح پنجاب کا صوبا ہوا میں ہوا یعنی کہ ناممکن ہوا میں مٹا یعنی کہ اعجوبا ہوا ہر نگر اپنے لیے جنت ہوا ہر شجر اپنے لیے طوبا ہوا جس پہ غالب ہو گئی دنیا کی فکر آخرش فکروں کا ملغوبا ہوا میم ہے کوئی نہ کوئی ہے الف اِس تخلص سے بھی ہوں اوبا ہوا

اوڑھ کر ہم نے جامۂ افرنگ

اوڑھ کر ہم نے جامۂ افرنگ کر فراموش اپنی چال ہی دی ٹالتے ٹالتے ہر اِک دن کو زندگی تم نے ساری ٹال ہی دی کان میں بات ڈالنی تھی مجھے کان میں بات میں نے ڈال ہی دی