اشاعتیں

آسماں پر سحاب حیرت ہے

آسماں پر سحاب حیرت ہے یہ نقاب النقاب حیرت ہے کعبے پر ہے گمان پانی کا در طوافِ سراب حیرت ہے جب کہ عالم تمام ہے نشہ مے کدوں میں شراب حیرت ہے آنا اپنا ہزار دقت سے اور جانا شتاب حیرت ہے صبح تھا میں سوال پر حیران شام پا کر جواب حیرت ہے بندہ دیکھے یا بندہ پرور میمؔ خواب در ہر نقاب حیرت ہے

نہ آج روک مجھے اے بہار جانے دے

نہ آج روک مجھے اے بہار جانے دے چمن پہ اور بھی آئے نکھار جانے دے کسے گمان کروں آشناے حالِ خراب اگر نہ کوئی سرِ کوے یار جانے دے لہو کو ننگ ہے اِن آبلوں سے پھوٹ بہے اے خستہ پائی سوے خار زار جانے دے اُٹھا نہ پاؤں مرے سینۂ محبت سے مبادا جان دلِ بے قرار جانے دے سنا ہے دشت میں فاتحؔ تکے ہے تیری راہ اے شہر آرا وہاں کچھ غبار جانے دے

دنیا کے جب طلسم سے آزاد ہو گئے

دنیا کے جب طلسم سے آزاد ہو گئے ہم آپ اپنے جسم سے آزاد ہو گئے مجنون کہہ پکارتے پھرتے ہیں ان کو لوگ جو قید و بندِ اسم سے آزاد ہو گئے اِس مے کدے کے پیالے کبھی مشتِ خاک تھے حیرت ہے اپنی قسم سے آزاد ہو گئے

آرزو جس عہدِ بے پایاں کی ہے

آرزو جس عہدِ بے پایاں کی ہے وہ گھڑی نظارۂ خوباں کی ہے پھول کے ہم دست کچھ آتے ہیں خار آزمایش وسعتِ داماں کی ہے کل کھلی جو آنکھ تو دیکھو گے ایک کش مکش پھر دوزخ و رضواں کی ہے ہے خدا کی حضرتِ انساں کو فکر اور اُس کو حضرتِ انساں کی ہے تیرے ہی پاؤں نے مسلا روے گل سب عنایت گلشنِ امکاں کی ہے حکم ہے اگلے جہاں رکنے کا میمؔ پھر طلب تجھ سوختہ ساماں کی ہے

ہزار خار سہی پاے جستجو کے لیے

کسے فراغ پریشانیِ عدو کے لیے بہت ہے حلقۂ احباب ہاؤ ہو کے لیے حسد سے مانگتی پھرتی ہے چشمِ رو بہ فرار شکستگی تزکِ حسنِ خوب رو کے لیے ز شہرِ سنگ پرستاں ہوں داد خواہِ جنوں شکستِ شیشۂ پندارِ آبرو کے لیے سخن طرازیِ فاتحؔ ہے پاسِ اہلِ ہنر مقامِ نقد نہیں خوے عیب جو کے لیے (ق) اُڑی جو دشت میں بادِ خزاں بھبوکے لیے تو پہلے بوسے مری چشمِ بے وضو کے لیے کہا یہ میں نے کہ مت چھیڑ فکرمندِ بہار! کہ ہم بھی بیٹھے ہیں کچھ داغ آرزو کے لیے ذرا متابعِ جوشِ جنوں تو ہوں کہ چلیں ہزار خار سہی پاے جستجو کے لیے

گر شرحِ نکتہ ہاے حکیمانہ چاہیے

گر شرحِ نکتہ ہاے حکیمانہ چاہیے طبعِ سلیم! عقلِ سلیمانہ چاہیے ہے پردگی ظہور کا سامانِ واقعی معبود بہرِ عبد حجابانہ چاہیے مشمولِ اہلِ باغ ہوں ہر چند مثلِ گل یک رنگِ خودنمائی جداگانہ چاہیے ہو جائے کشت و خون مبادا رواج کار ہر شہر ساتھ جادۂ ویرانہ چاہیے شمعِ کلامِ فاتحِؔ مجذوب کے لیے وارفتگاں میں خوبیِ پروانہ چاہیے

روزنِ حسرتِ یار بجھا ہے

روزنِ حسرتِ یار بجھا ہے دل کے دریچے موڑ چکے جام و سبو بے کار پڑے ہیں ساغر و مینا توڑ چکے فکر و تأمل ہی سے علاقہ شعر و سخن کی بابت تھا سو یہ زمامِ کار بھی آخر خواہی نخواہی چھوڑ چکے