اشاعتیں

فاتح کو یوں گریز ہے دنیا جہان سے

فاتح کو یوں گریز ہے دنیا جہان سے سوے عدم ہی جائے گا اپنے مکان سے

شعروں سے تعلق تو نبھانا ہو گا

شعروں سے تعلق تو نبھانا ہو گا پر جی کو رباعی سے لگانا ہو گا جن جن کے تصور سے تھی آباد غزل اب اُن کو کسی طور بھلانا ہو گا

دن رات کا افسانہ تو آنکھوں میں سمٹ جائے

دن رات کا افسانہ تو آنکھوں میں سمٹ جائے پڑھنے میں ترا چہرہ کہیں عمر نہ کٹ جائے کچھ ہاتھ سرِ روزنِ زنداں تو اُٹھے ہیں شاید مری تقدیر کا پانسا بھی پلٹ جائے فاتؔح چلے آتے ہیں سرِ بزمِ سخن گوئی کم فہم کو لازم ہے کہ وہ آگے سے ہٹ جائے

جو حکایت تمھارے نام ہوئی

جو حکایت تمھارے نام ہوئی خوب مقبولِ خاص و عام ہوئی مٹ گیا رنگِ امتیازِ فلک جب زمیں پر نمودِ شام ہوئی عقل کی مشعلیں ہی سلگا لو سوزشِ عشق گر تمام ہوئی وقت کی آگ پر یہ خشتِ حیات جتنی پختہ ہوئی سو خام ہوئی ایک تفہیم جو کبھی نہ ہوئی ایک تنقید جو مدام ہوئی میں نہیں میری شاعری فاتؔح خوب مقبولِ خاص و عام ہوئی

آنکھوں پہ بٹھانا مرا دستور نہیں ہے

آنکھوں پہ بٹھانا مرا دستور نہیں ہے یوں ملنا ملانا مرا دستور نہیں ہے چپ چاپ اُسے دیکھتا ہوں غیر کے ہم راہ باتوں کو بڑھانا مرا دستور نہیں ہے پھرتا ہے پشیمان وہ خود روٹھ کر اب کے ہر بار منانا مرا دستور نہیں ہے مجبور نہ کر مجھ کو ترے دیس کو چھوڑوں پھر لوٹ کے آنا مرا دستور نہیں ہے سننے کا بہت شوق ہے اُن کو مرے ارمان پر خواب سنانا مرا دستور نہیں ہے ہو گا کہ یہ تکلیف دہی تیری نہج ہو اشکوں کا بہانا مرا دستور نہیں ہے مت ڈوبتی کشتی سے مجھے دیکھ مرے دل امید دلانا مرا دستور نہیں ہے مشتاق کوئی چارہ نوازی کا ہو فاتحؔ احسان اٹھانا مرا دستور نہیں ہے

آسماں پر سحاب حیرت ہے

آسماں پر سحاب حیرت ہے یہ نقاب النقاب حیرت ہے کعبے پر ہے گمان پانی کا در طوافِ سراب حیرت ہے جب کہ عالم تمام ہے نشہ مے کدوں میں شراب حیرت ہے آنا اپنا ہزار دقت سے اور جانا شتاب حیرت ہے صبح تھا میں سوال پر حیران شام پا کر جواب حیرت ہے بندہ دیکھے یا بندہ پرور میمؔ خواب در ہر نقاب حیرت ہے

نہ آج روک مجھے اے بہار جانے دے

نہ آج روک مجھے اے بہار جانے دے چمن پہ اور بھی آئے نکھار جانے دے کسے گمان کروں آشناے حالِ خراب اگر نہ کوئی سرِ کوے یار جانے دے لہو کو ننگ ہے اِن آبلوں سے پھوٹ بہے اے خستہ پائی سوے خار زار جانے دے اُٹھا نہ پاؤں مرے سینۂ محبت سے مبادا جان دلِ بے قرار جانے دے سنا ہے دشت میں فاتحؔ تکے ہے تیری راہ اے شہر آرا وہاں کچھ غبار جانے دے