اشاعتیں

کچھ مت سوچ

گم نہ رہ سوچ میں تو دیکھ کے چل کچھ مت سوچ ذہن کی بھول بھلیوں سے نکل کچھ مت سوچ دل اندھیرے کا تری آگ سے ہو جائے گا موم موم بتی کی طرح چپکے پگھل کچھ مت سوچ روشنی بانٹ اگر سینہ ترا روشن ہے کیوں ہیں اوروں کے بجھے دل کے کنول کچھ مت سوچ معرفت ڈھونڈ سرِ راہِ طلب، زیرِ شجر میرے گوتم! پسِ دیوارِ محل کچھ مت سوچ بیج بو بیج، یہ دنیا ہے عمل کی کھیتی فصل ناکام رہے گی کہ سپھل کچھ مت سوچ اژدھا ڈر کا مقابل ہو تو تلوار نکال وہم کے سانپ کو پتھر سے کچل کچھ مت سوچ زندگی جنگ ہے لمحات سے لڑنا ہے تجھے جیتنا چاہے تو دورانِ جدل کچھ مت سوچ خود کو مصروف رکھ اِس آج کے عرصے میں منیبؔ کل کا سوچیں گے جب آ جائے گا کل کچھ مت سوچ

ساتھ رہتے ہیں مگر دور ہیں لوگ

ساتھ رہتے ہیں مگر دور ہیں لوگ کس قدر شہر کے مغرور ہیں لوگ سب کی آنکھوں میں نمی دیکھتا ہوں جانے کس بات پہ رنجور ہیں لوگ قید ہیں ذہن کے زنداں میں سبھی دل تک آتے نہیں، مجبور ہیں لوگ آگ مقصد کی دبی ہو جن میں خاک ہو کر بھی وہ پُرنور ہیں لوگ پیار معمور نہ ہو آپس میں شاید اِس امر پہ مامور ہیں لوگ ہو کے مشہور تو لوگوں میں نہ بھول بھول جانے میں بھی مشہور ہیں لوگ کیوں کر اِفہام کروں اِن سے منیبؔ ابھی تفہیم سے معذور ہیں لوگ

جی کر دیکھو

آنسو جو بہاتے ہو، وہ پی کر دیکھو نالاں ہو، کبھی ہونٹ بھی سی کر دیکھو میں نے کہا ”مر جاؤں گا“ ہنس کر بولا مر جانا تو آسان ہے، جی کر دیکھو

حب الوطنی

ہم قوم ہیں آزاد کہ فتراک میں نخچیر؟ ہاتھوں پہ دھرے ہاتھ بنے کشتۂ تقدیر نے جرأتِ تخریب ہے، نے جذبۂ تعمیر یوں کاہلی سے کوئی کبھی بات بنی ہے؟ اے ہم وطنو! کیسی یہ حب الوطنی ہے؟ میدانوں میں ہونے لگے ہر روز دھماکے دریا بھی گئے سوکھ، ہوئے خشک کنارے گر یاں پہ اترتے ہیں فرشتے تو قضا کے نافع ہے کوئی پیشہ سو وہ گورکنی ہے اے ہم وطنو! کیسی یہ حب الوطنی ہے؟ مہنگائی نے کچھ کم ہی دبائی نہ تھی گردن قرضوں کے بھی انبار تلے آ گئی گردن سو ہاتھ ہیں صیاد کے، اِک منحنی گردن فریاد کے بھالے ہیں یا آہوں کی اَنی ہے اے ہم وطنو! کیسی یہ حب الوطنی ہے؟ پردیس بھی جانے کے لیے مرتے ہو تم سب جو کام برائی کے ہیں وہ کرتے ہو تم سب الزام مگر غیر کے سر دھرتے ہو تم سب دھن پاس ہے جس کے وہ عیاشی کا دھنی ہے اے ہم وطنو! کیسی یہ حب الوطنی ہے؟ شہ رگ پہ بھی اِک لمبے زمانے سے ہے جکڑن پھیلی ہوئی وحشت کی فضا اب بھی ہے بن بن ہر شخص کی آپس میں چلی آتی ہے اَن بن اِک جنگ عداوت کی سی آپس میں ٹھنی ہے اے ہم وطنو! کیسی یہ حب الوطنی ہے؟ حال آن کہ سبھی جانتے ہیں وقت عجب ہے کیا جانیے کیا خواب...

چمن میں گرچہ گل و لالہ کی کمی ہے بہت

چمن میں گرچہ گل و لالہ کی کمی ہے بہت اُسے جو دیکھنا چاہیں اُنھیں یہی ہے بہت خزاں کا ڈر ہے کہ گل چیں کا ہے بتا بلبل کلی کلی کے لیے تجھ کو بے کلی ہے بہت گلے ملے ہیں ملائے ہیں ہاتھ آپس میں مگر ہے یوں کہ ہر اک شخص اجنبی ہے بہت وہ شعلہ رخ ہے مری چشم کے دریچوں میں ابھی دیے نہ جلاؤ کہ روشنی ہے بہت یہی بہت ہے اگر مرگ بے کراں ہو منیبؔ کہ زندگی تو ہماری نپی تلی ہے بہت

آخری سال

میں چپ، آخری سال بھی چپ ہے جی سی کا گھڑیال بھی چپ بسّیں بھی خاموش کھڑی ہیں اور بخاری ہال بھی چپ ایمفی خالی، کیفے بند اور مسجد کا مینار خموش گزٹ کے دفتر کی تختی پر ناموں کا انبار خموش ہرے سمندر میں اوول کے رنگوں کی نیّا چپ چپ گورے چہرے، کالی آنکھیں، پھول مہکتا سا چپ چپ شعبۂ اُردو کی دیواروں پر جمتی کائی خاموش کوئی منیب احمد تھا کبھی یاں بس بھائی، بھائی خاموش!

دیوانوں کی صورت میں ہر رہ سے گزر آیا

دیوانوں کی صورت میں ہر رہ سے گزر آیا عالم میں کوئی مجھ کو مجھ سا نہ نظر آیا دنیا ہے کہ زنداں ہے جس کو بھی یہاں دیکھو زنجیر بہ پا آیا اغلال بہ سر آیا اے قافلے والو تم جس گام پہ جا ٹھہرے اُس سے ہمیں آگے کا درپیش سفر آیا کیا جانیے کیسا ہے وہ خطۂ روپوشاں یاں سے تو گیا جو بھی لے کر نہ خبر آیا کنگال ہیں بے چارے یہ اہلِ زمیں سارے لینے کو خراجِ فن فاتحؔ تو کدھر آیا