اشاعتیں

دھوپ ہے دیوار کا سایا بھی ہے

دھوپ ہے دیوار کا سایا بھی ہے بیٹھنا تنہا ہمیں بھایا بھی ہے جس کے آگے منزلیں ہوتی نہیں دل ہمیں اُس گام تک لایا بھی ہے چھوڑتے ہرگز نہیں سنسار کو اور یہ کہتے ہیں سب مایا بھی ہے ڈھونڈنے والوں سے یہ پوچھے کوئی کیا کسی نے ڈھونڈ کر پایا بھی ہے؟ یوں تو سمجھایا سمجھ داروں نے خوب پر جو سمجھایا سمجھ آیا بھی ہے؟ زندگی ننگی کی ننگی ہے منیبؔ پیرہن معنی کا پہنایا بھی ہے

معنی کا گہر بحر کے اندر تو نہیں ہے

معنی کا گہر بحر کے اندر تو نہیں ہے کچھ سار بھی اِس دہر کے اندر تو نہیں ہے اب ڈوبنے والے بھی کئی ہاتھ ہیں لیکن تنکا سا کسی نہر کے اندر تو نہیں ہے ستھرائی صفا‘ چین سکوں‘ پیار محبت باہر ہو کہیں‘ شہر کے اندر تو نہیں ہے جو خوف میں جاں لینے کی لوگوں کی سکت ہے وہ تاب و تواں زہر کے اندر تو نہیں ہے جو سختی ترے قہر کے اندر ہے‘ اے قاہر! وہ نرمی ترے مہر کے اندر تو نہیں ہے دریا میں منیبؔ آپ نے جس لہر کو دیکھا دریا بھی اُسی لہر کے اندر تو نہیں ہے؟

شاید کہ انجمن میں سنے کوئی دردمند

شاید کہ انجمن میں سنے کوئی دردمند کہتا کبھی کبھی ہوں میں خلوت میں شعر چند تم کو اگر پسند ہیں تو دوست رکھ ہی لو مجھ کو مری لکھی ہوئی چیزیں نہیں پسند موزونیِ طبع سے میں اب شاعری کروں جانوں نہ کوئی ماترا‘ مانوں نہ کوئی چھند گاہک بنے گا کوئی بھی ایسی دکاں کا جو دو چار دن کھلی رہے‘ دو چار روز بند؟ مچھلی کی بو کو سونگھ کے پکڑی ہے تم نے ناک یہ بو بھی ماہی گیر سے پوچھو‘ ہے اِک سگندھ دانا کو کیا بتائیے؟ ناداں سے کہیے کیا؟ سنیے منیبؔ! چھوڑیے کرنا یہ وعظ و پند

لوٹ لے جتنی لوٹنی ہے دھوپ

لوٹ لے جتنی لوٹنی ہے دھوپ قبر کے بیچ چھوٹنی ہے دھوپ تو بہت سائباں بناتا ہے کیا ترے سر پہ ٹوٹنی ہے دھوپ؟ سورج اُگنے کا اِنتظار نہ کر تیرے سینے سے پھوٹنی ہے دھوپ جل بجھا آفتاب غصے سے اب تو جلدی ہی روٹھنی ہے دھوپ بس کہ صحرائے زندگی میں منیبؔ ریت ہے‘ میں ہوں‘ اونٹنی ہے‘ دھوپ

احسان مانتے ہیں نہ آداب جانتے ہیں

احسان مانتے ہیں نہ آداب جانتے ہیں اب بندے اپنے آپ کو ہی صاب جانتے ہیں تم بادشہ ہو حسن کے‘ ہم عشق کے شہنشہ دونوں ہی اپنے آپ کو نواب جانتے ہیں تم زندگی میں دیکھتے ہو خواب سو طرح کے پر ہم تو زندگی کو ہی اِک خواب جانتے ہیں پانچوں حواس کھوئے گئے جیسے پانچ دریا سو اپنے تن کو صوبۂ پنجاب جانتے ہیں ہم نیلے آسمان کے پنجرے میں قید پنچھی اپنے پروں میں سب پرِ سرخاب جانتے ہیں کم فائدے کو جانتے نقصان تم ہو لیکن نقصان کم ہو‘ اِس کو بھی ہم لابھ جانتے ہیں یوں تو وسیع حلقہ ہمیں جانتا ہے لیکن گہرائی میں منیبؔ کچھ احباب جانتے ہیں

میں تو کروں گا ویسا ہی

میں تو کروں گا ویسا ہی جیسا اچھا لگتا ہے رہنے دو کمرہ خالی ایسا اچھا لگتا ہے بیتا وقت برا بھی ہو کیسا اچھا لگتا ہے اب تو فقیروں کو صاحب پیسا اچھا لگتا ہے مے کش کو انگور بھی کچھ مے سا اچھا لگتا ہے جیسا بھی ہو حال منیبؔ ویسا اچھا لگتا ہے

دن اور ہی کچھ کہتے ہیں

دن اور ہی کچھ کہتے ہیں شب کہتے ہیں کچھ اور کچھ اور ہی کہتے ہیں وہ جب کہتے ہیں کچھ اور اِتنا ہی تو کہتے ہیں کہ تو دل کی سنا کر اے جان مری ہم تجھے کب کہتے ہیں کچھ اور اندر سے تو کیا ٹکڑوں میں دو ٹوٹ گیا ہے آنکھیں تری کچھ کہتی ہیں لب کہتے ہیں کچھ اور ہر روز تو کہتا ہے کہ ہوں آج بہت خوش انداز یہ اطوار یہ ڈھب کہتے ہیں کچھ اور کہتے ہیں سدا آپ منیبؔ اوروں کو اچھا پر آپ کے بارے میں تو سب کہتے ہیں کچھ اور