اشاعتیں

معنی بھر لینا

ظرف میں تم کو دے جاتا ہوں تم اُن میں پانی بھر لینا یعنی حرف میں دے جاتا ہوں تم اُن میں معنی بھر لینا

ہر اِک گام پر ہے نئی زندگی

نہ کر غم کہ کتنی گئی زندگی ہر اِک گام پر ہے نئی زندگی چپکتے ہیں اِس سے تو چھٹتے نہیں بڑی چپچپی ہے لئی زندگی کوئی اِس کو سمجھا نہیں آج تک خدا جانے کیا ہے بھئی زندگی نہ کچھ مرنے والوں کا غم کیجیے ہے اپریل موت اور مئی زندگی زمینِ غزل پر مکانات میؔم بناتے بناتے ڈھئی زندگی

میں اہم تھا ؍ یہی وہم تھا

تو سمجھتا ہے بہت تو اہم ہے بھول ہے تیری‘ یہ تیرا وہم ہے موت کا کیا سامنا کر پائے گا؟ جب گیا تو زندگی سے سہم ہے! ہڈّیوں کا ڈھیر ہی رہ جائے گا پہلواں! مانا تو کوہِ لحم ہے میری باتوں کو سمجھتے ہیں فہیم اُس قدر ہی جتنا اُن کا فہم ہے رونقِ بازارِ دنیا‘ سچ بتا! کیا ترے دل میں بھی گہما گہم ہے؟ عدل کا خواہاں نہیں ہوں ’میم الف‘ جس کا میں طالب ہوں‘ اُس کا رحم ہے

رات اور رات بھی برسات کی رات

رات اور رات بھی برسات کی رات کاش ہوتی یہ ملاقات کی رات جیت کے دن سے بہت بڑھ کر ہے اہلِ ہمت کے لیے مات کی رات جی میں آتا ہے کہ سب سے چھپ کر کوچ کر جائیں کہیں رات کی رات

نہ دل ہوتا تو دیوانا نہ ہوتا

نہ دل ہوتا تو دیوانا نہ ہوتا گل و بلبل کا افسانا نہ ہوتا سبھی اپنوں سے بے گانے تو ہوتے کوئی اپنے سے بے گانا نہ ہوتا اگر رومیؒ کو تبریزیؒ نہ ملتا تو وہ ملّا سے مولانا نہ ہوتا حقیقت کیا تھی؟ اِس کو جان لیتے اگر پہلے سے کچھ مانا نہ ہوتا گل و گلزار ہوتا کس طرح میؔم فنا گر خاک میں دانا نہ ہوتا

طالبِ دیدار کی ہمت ہی ہے

طالبِ دیدار کی ہمت ہی ہے ہر قدم اِس راہ میں حیرت ہی ہے موند کر آنکھیں اگر دیکھے کوئی پردۂ کثرت میں بھی وحدت ہی ہے نفس ہو گر مطمئن، اے ہم نفس! پھر یہ دنیا بھی کوئی جنت ہی ہے عقل دیتے ہیں تو لے لیتے ہیں عمر بخش دیں دونوں تو یہ نعمت ہی ہے خواب سی جو زندگانی ہے منیبؔ جاگنے کی نیند سے مہلت ہی ہے

مول ہوتا ہے دل سے کرنے کا

مول ہوتا ہے دل سے کرنے کا ورنہ کرنا فضول ہوتا ہے اُس کو جینے کا ڈھنگ آتا ہے جس کو مرنا قبول ہوتا ہے کچھ بھی بے ضابطہ نہیں ہوتا سب کے پیچھے اصول ہوتا ہے دکھ میں لگتے ہیں پھول بھی کانٹے سکھ میں کانٹا بھی پھول ہوتا ہے جہاں بستی میں نیم ہوتی ہے وہیں بن میں ببول ہوتا ہے جوہری کی نگاہ پڑتی ہے ورنہ ہیرا بھی دھول ہوتا ہے مجھ کو دنیا منیبؔ لگتی ہے جیسے کوئی سکول ہوتا ہے