اشاعتیں

اپنے بس کی بات نہیں ہے

پڑھنا پڑھانا اپنے بس کی بات نہیں ہے لکھنا لکھانا اپنے بس کی بات نہیں ہے چپ رہ جانا کچھ نہیں کہنا بس میں ہے شور مچانا اپنے بس کی بات نہیں ہے تک بندی ہم کر لیتے ہیں تھوڑی سی شعر بنانا اپنے بس کی بات نہیں ہے سادہ سے اِک آدمی ہیں ہم ایم اے پاس زیادہ کمانا اپنے بس کی بات نہیں ہے ساتھی تیرے ساتھ سے ہم پہ ظاہر ہے ساتھ نبھانا اپنے بس کی بات نہیں ہے سادہ سی اِک زندگی کو اُلجھا لیا ہے سہج بنانا اپنے بس کی بات نہیں ہے دوسروں کے میں کام تو کرتا ہوں لیکن کام کرانا اپنے بس کی بات نہیں ہے پیڑوں کے پھل کھانے کی حسرت تو ہے پیڑ ہلانا اپنے بس کی بات نہیں ہے آج سے میں بس شعر لکھوں گا کاغذ پر ویڈیو بنانا اپنے بس کی بات نہیں ہے شاعری کر کے ذہن بہت تھک جاتا ہے ہل یہ چلانا اپنے بس کی بات نہیں ہے

ایک دن اور جی لیا ہم نے

کھا لیا ہم نے پی لیا ہم نے ایک دن اور جی لیا ہم نے چوٹ اِک اور لگ گئی دل کو زخم اِک اور سی لیا ہم نے کل بھی کر کے جسے تھے پچھتائے آج پھر کر وہی لیا ہم نے

ہوں میں کل سنسار سے اوبا ہوا

ہوں میں کل سنسار سے اوبا ہوا اور اپنے آپ میں ڈوبا ہوا ہو گئی تقدیر آخر کامیاب اپنا ہر ناکام منصوبا ہوا تو محب اپنا ہوا نہ ایک دل میں ترا سارا ہی محبوبا ہوا جب ہوئی ہم کو طلب تیری ہوئی جب ہوا تب تو ہی مطلوبا ہوا اِس طرح سے ہو گیا تن خشک تر جس طرح پنجاب کا صوبا ہوا میں ہوا یعنی کہ ناممکن ہوا میں مٹا یعنی کہ اعجوبا ہوا ہر نگر اپنے لیے جنت ہوا ہر شجر اپنے لیے طوبا ہوا جس پہ غالب ہو گئی دنیا کی فکر آخرش فکروں کا ملغوبا ہوا میم ہے کوئی نہ کوئی ہے الف اِس تخلص سے بھی ہوں اوبا ہوا

اوڑھ کر ہم نے جامۂ افرنگ

اوڑھ کر ہم نے جامۂ افرنگ کر فراموش اپنی چال ہی دی ٹالتے ٹالتے ہر اِک دن کو زندگی تم نے ساری ٹال ہی دی کان میں بات ڈالنی تھی مجھے کان میں بات میں نے ڈال ہی دی

نہیں ہے جان اب باقی ذرا بھی

نہیں ہے جان اب باقی ذرا بھی ہلانا لب ہے اپنا معجزہ بھی یہ جو بخشا گیا ہے شعر کا فن یہی نعمت یہی ہے اِبتلا بھی اگر اِتنی ہی جینے کی ہوس ہے تو اپنی ذات کا پتھر اٹھا بھی تو کیا قارون بنتا جا رہا ہے کمائی ہے اگر دولت لٹا بھی تو ہر انداز میں پیارا ہے ہم کو وفا چاہے کرے چاہے جفا بھی تو جب غصے سے ہم کو دیکھتا ہے کچھ اُس کے ساتھ میں ہو کر خفا بھی اگرچہ جان لے لیتی ہے لیکن ہمیں بھاتی ہے تیری یہ ادا بھی حقیقت ایک ہی کے نام ہیں یہ محبت بھی سکوں بھی اور خدا بھی تو اپنے بادباں تو کھول ملاح لگے گی چلنے دم بھر میں ہوا بھی بغاوت کے نہیں آثار ہوتے غلامی میں ہو جب شامل رضا بھی نہیں ہے عشق اُس سے تو الگ ہو جو اُس سے عشق ہے تو پھر نبھا بھی نہ تیرا ساتھ دیں گے وقتِ رحلت یہ تیرے بال بچے بھائی بھابھی ترے نقصان کا سوچے گا کوئی جگت کے بیچ تو سارے ہیں لابھی بہادر کے قدم کپتے نہیں ہیں اگرچہ بھے سے کپ جاتی ہے نابھی نہیں معلوم تو بہتر ہے چپ رہ اگر معلوم ہے تب کچھ بتا بھی

ہے مزہ کھانے کا یارو بانٹ کے

چھانٹ کے رکھو‘ نہ رکھو گانٹھ کے ہے مزہ کھانے کا یارو بانٹ کے جو سمجھ جاتا ہے بچہ پیار سے اُس کو سمجھاتے نہیں ہیں ڈانٹ کے فلسفے میں ہم تو پڑتے ہی نہیں معتقد ہیگل کے ہیں نہ کانٹ کے اِس قدر سامان ردی ہے جمع کچھ الگ کر دیجیے نا چھانٹ کے طفل کو دلوا دیے جوتے نئے باپ نے پہنے پرانے گانٹھ کے کوچ کرنا ہی مقدر میں ہو جب کیا کریں یاری کسی سے گانٹھ کے میم الف تنہا ہی کرتے ہیں شکار سانٹھ وہ قائل نہیں ہیں گانٹھ کے

کہ لے کچھ تو بھی اے دلم کہ لے

کہ لے کچھ تو بھی اے دلم کہ لے شاید اِس طور ہی سے جی بہلے یا نہ کر شکوۂ علالتِ طبع یا یہ آفات یک جگر سہ لے یا تو اُس استری سے پیار نہ کر یا اکیلے ہی عمر بھر رہ لے نہ لگا قفلِ احتیاط بہت جو بھی آئے زبان پر کہ لے اب وہ دو چار بھی نہیں باقی جو کہ نہلوں پہ مارتے دہلے گر زمانے سے داد چاہتا ہے تو زمانے کے طعن بھی سہ لے تجھ کو میں روبروئے مہر کروں گر تو افشائے چاندنی سہ لے اِس سے پہلے کہ سازِ عمر ہو ختم جو بھی کہنا ہے ہم سخن کہ لے مثلِ عصفور باغِ ہستی میں یعنی کر تھوڑی دیر چہ چہ لے ایک عرصہ ہوا ہے ’میم الف‘ اب تو ہمراہِ دوستاں ٹہلے